اسلام آباد: موزو یورپی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ (انسپاڈ )نے بنگلہ دیش میں مذھبی جماعت کے رہنما اور صحافی عبدالقادر ملا کی سزائے موت کو عدالتی قتل قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ بیالیس سال پرانے الزام کا بہانا بنا کر کسی کی جان لینا محض دشمنی ہے اس سے مذھبی طبقات کو اشتعال ملے گا اور کئی پرانی دشمنیاں سر اٹھائیں گی جس سے بنگلہ دیش اور ا س کے ارد گر د ممالک بھی متاثر ہو نگے۔انسپاڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عبدالقادر ملا کی مو ت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔اقوام متحدہ اور او آئی سی کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے بنگلہ دیشی وزیر اعظم نے ایک معروف سیاسی رہنما کو سزائے موت دیکر وہاں کی عوام میں بدنامی پائی ہے اور ایسا اقدام جنگی جرائم میں آتاہے۔انسپاڈ نے کہاہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت مذھبی طبقات کو بھارتی دبائو پر سزائیں دیکر غلطی کر رہی ہے اس کے اثرات دور تک جائیں گے اور پھر حالا ت ان کے کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔ایک معتدل مزاج مذھبی رہنما پر 300 افراد کا جعلی مقدمہ بذات حوز بنگلہ دیش حکومت کی بدنامی کا باعث ہے انسپاڈنے عالمی اداروںاور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ عبدالقادر ملا کی سزائے موت کا نو ٹس لیں اور بنگلہ دیش حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ آئندہ ایسی مذموم حر کات سے باز رہے اور کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے انسانی حقوق اور انسانیت کی تذلیل کا پہلو نکلتا ہو اور ایسی کوئی دکت نہیں کر نی چاہیے جس سے پاکستان کے خلاف نفرت اور دشمنی کا تاثر ملتا ہو۔

free vector